وہ ابھی تک کل والے کالج کے یونیفارم میں ملبوس تھی جو جگہ جگہ سے میلا ہو چکا تھا۔۔۔ بالکل اسکے کردار کی طرح۔۔۔ اسکے کردار کی چادر بھی تو جگہ جگہ سے میلی ہو گئ تھی۔۔۔ بھلے ہی اسکی عزت محفوظ رہی تھی مگر ایک گھر سے بھاگی لڑکی اور رات بھر باہر رہنے والی لڑکی کو معاشرہ کن الفاظ میں یاد کرتا ہے اسکے بارے میں کیا رائے قائم کرتا ہے یہ سوچ ہی اسے نیم مردہ بنا رہی تھیں۔۔۔
کل رات اسکا توکل اللہ پر مزید مضبوط ہو گیا تھا۔۔۔ ابھی اللہ کی بنائی اس دنیا میں نیک لوگ ختم نہیں ہوئے وہ مان گئ تھی کیونکہ ایسے ہی ایک فرشتہ نما انسان کی مدد سے وہ اس عفریت زدہ سے وائٹ پیلس سے رہا ہو پائی تھی۔۔۔
کیا اسکے گھر والے اسے قبول کریں گے یا دھتکار دیں گے۔۔۔ یہ سوچوں کے وہ ناگ تھے جو اسے کل رات سے ہی ڈس رہے تھے۔۔ افسوس صد افسوس کہ وہ اب جن چیزوں کے بارے میں سوچ رہی تھی پہلے کیوں نا سوچ پائی۔۔۔۔ کیوں باپ اور بھائیوں کے سروں ہر خاک ڈالنے سے پہلے اسنے نا سوچا۔۔۔ کیوں گھر کی دہلیز پار کرنے سے پہلے وہ یہ نا سوچ پائی کہ اسکے اس عمل سے کیسے اسکے باپ بھائی معاشرے میں سر اٹھا کر جی پائیں گے۔۔۔
اب سوچ رہی تھی تو دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔ اب جب کہ وقت سوکھی ریت کی مانند ہاتھوں سے پھسل چکا تھا تو ایسے میں لکیر پیٹنے کا بھلا کیا فائدہ تھا۔۔
وہ ایک عقوبت خانے سے باحفاظت نکل آئی تھی مگر تصور کر سکتی تھی کہ زندگی آگے بھی اسکے لئے خاردار ہی ثابت ہونے والی تھی۔۔۔ سوچوں کے ناگ اندر ہی اندر سر ابھارتے اسے ڈس رہے تھے۔۔۔
تمہیں یقین ہے کہ جسکا نمبر تم نے مجھے دیا ہے وہ تمہیں لینے یہاں ضرور آئے گا۔۔۔
اس نیم تاریک سے لاوئنج کی ایک جانب سے ایک سایہ نمودار ہوا تھا۔۔۔ رشنا نے آواز پر سر گھٹنوں سے اٹھا کر اس جانب دیکھا۔۔
متورم سرخ سوجھی آنکھیں۔۔۔ ناک اور گال مسلسل شدت گریہ سے سرخ ہوئے پڑے تھے۔۔۔ ماتھے پر ایک پٹی بندھی تھی۔۔۔ جبکہ چہرے اور گردن پر بھی جا بجا خراشیں لگی تھیں۔۔ سر پر البتہ وہی سیاہ شال اوڑھ رکھی تھی جسے کل پری اپنے قدموں تلے روند گئ تھی۔۔۔
وہاب ضرور آئیں گے۔۔۔ میں انہیں اچھے سے جانتی ہوں ۔۔ میری اطلاع پا کر ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ نا آئیں۔۔۔ دل کا غم ایک مرتبہ پھر سے آنسو بن کر بہہ نکلا تھا وہاب کے ذکر پر چہرے پر اذیت کی ایک نئ داستاں رقم ہونے لگی تھی۔۔۔
ہے کون وہ۔۔۔ اسکے چہرے کا ایک ایک اتار چڑھاو دیکھتے وہ سایہ الجھن زدہ تاثرات لئے مستفسر ہوا۔۔۔
میرا منگیتر ہے۔۔۔ اگلے ہفتے شادی تھی ہماری۔۔۔ رشنا پھر سے چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
اسکی باتیں سن کر وہ سایہ ایک پل کو ٹھٹھکا مگر دوسرے ہی پل خود کو کمپوز کرتے اسنے لاوئنج کی ایک کھڑکی سے دبیز پردا ہٹا دیا جس سے روشنی کو اندر داخل ہونے کا راستہ فراہم ہو گیا اور وہ پورے طمطراق سے لاوئنج میں داخل ہوتی لاونج کو منور کر گئ تھی۔۔۔
اگلے ہفتے شادی تھی تو گھر سے بھاگی کیوں۔۔۔کھڑی کی جانب رخ کئے اس سائے کی سنجیدہ آواز ابھری۔۔۔
ہمارا رشتہ دو سال پہلے بڑوں کی رضا مندی سے طے ہوا تھا۔۔۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔۔۔ ہر مشرقی لڑکی کی طرح مجھے میرے بڑوں کے فیصلے پر کوئی اعتراض نا تھا۔۔۔ مگر پھر میری زندگی میں آفتاب آیا۔۔۔ ہماری بات چیت کی شروعات فیسبک پر ہوئی تھی۔۔۔ وہ باتیں کمال کی کرتا تھا۔۔۔ رفتہ رفتہ میں اسکی خوشنما باتوں کی جال میں پھنستی چلی گئ۔۔۔
مجھے اس کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا ۔۔۔ میرے دن کی شروعات اس سے بات کر کے ہوتی اور دن کا اختتام بھی اسی سے بات کر کے ہوتا۔۔۔ جس روز میری اس سے بات نا ہو پاتی مجھے وہ دن کاٹنے کو ڈورتا۔۔۔ اسنے مجھے محسوس کروا کہ میں خاص ہوں بہت خاص۔۔ میں اسکی دیکھائی رنگین دنیا میں کھوتی چلی گئ۔۔ حتی کہ اپنی سد بدھ تک کھو گئ۔۔
میری شادی کو محض ایک ہفتہ رہ گیا تھا۔۔۔ میں جانتی تھی کہ بابا اپنی روایات میں کٹر ہیں زبان کے پکے ہیں اگر آفتاب ہمارے گھر میرا رشتہ لے بھی آتا تو بابا کبھی وہ رشتہ قبول نہیں کرتے کیونکہ میرا رشتہ تو دو سال سے طے تھا۔۔ پھر آفتاب نے مجھے گھر سے بھاگ جانے کی ترغیب دی ۔۔۔ اور میں ۔۔۔ میں بےغیرت بنا حالات کی سنگینی کا احساس کئے بنا سوچے سمجھے اسکے لئے باپ کی دہلیز پار کر گئ۔۔۔
مجھ جیسیوں کی ساتھ قسمت پھر ٹھیک ہی کرتی ہے۔۔۔ جو لڑکی ماں باپ کے بارے میں نا سوچے دوسرے بھلا پھر اسکے بارے میں کیسے سوچ سکتے ہیں۔۔۔ میں نے بھی تو ایک اجنبی پر بھروسہ کیا۔۔ اور دیکھو میرے ساتھ کیا ہوا۔۔۔ اسکی خوشنما باتیں پانی پر بلبلا ثابت ہوئیں ۔۔۔ اسکا مجھے خاص بنانا مجھے پاتال میں گرا گیا۔۔۔
اس محبت کے دعویدار نے کیا کیا۔۔۔ کھلے عام محبت کی دھجیاں اڑائیں۔۔ میرا سودا کر دیا۔۔۔ چند نوٹوں کے پلندوں کے عوض مجھے بیچ دیا۔۔۔ مجھ جیسی بیٹیاں تو پیدا ہوتے ہی مر جانی چاہیں۔۔۔ لوگ بیٹیوں کی پیدائش پر انہیں بوجھ سمجھ کر نہیں روتے بلکہ شاید وہ ان بیٹیوں کے مجھ جیسا بدکراد نکل آنے کے ڈر سے روتے ہیں۔۔۔
جو میں نے اپنے ماں باپ کے ساتھ کیا اسکی معافی تو شاید ہی مجھے ملے۔۔۔ میں نے ایسا کیوں کیا۔۔ کیوں نا میں اپنے ماں باپ کی عزت کی لاج رکھ پائی۔۔۔ کیوں اس شخص کے چند میٹھے بول مجھے میرے ماں باپ کی مخلص محبت سے بھاری لگے۔۔ کیوں۔۔۔
کیوں میں ایک اچھی بیٹی نا بن پائی۔۔۔ کیوں میں اپنے باپ کا مان برقرار نا رکھ پائی۔۔۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ ٹھیک کرتے تھے بیٹی پیدا ہوتے ہی دفنا دیتے تھے شاید انہیں پتہ تھا کہ ان میں سے بھی کچھ بیٹیاں مجھ جیسی بد پیدا ہونگی جو ماں باپ کے سروں میں خاک ڈال دیں گی۔۔۔ اسی لئے شاید وہ بیٹی کی پیدائش پر خوفزدہ تھے۔۔۔
اسکا غم ختم ہونے کا نام ہی نا لیتا تھا۔۔۔ دل اپنی حماقتوں کے غم سے پھٹا جا رہا تھا۔۔۔۔ پشیمانی حد سے سوا تھی۔۔۔ شرمندگی پلکوں کی چلمن اٹھنے نا دیتی تھی۔۔ دل سے خون رس رہا تھا۔۔۔ اذیت حد سے سوا تھی۔۔۔
اسکی آہ و بکا اس فلیٹ کی چار دیواری سے سر ٹکرا ٹکرا کر واپس پلٹ رہی تھی۔۔۔
وہ اچھی بیٹی نہیں تھی یہ احساس ہی اسے زندہ درگو کر رہا تھا۔۔۔
آپ نے وہاب سے کیا کہا۔۔۔ رو رو کر جب ہلقان ہو چکی تو۔۔ یاد آنے پر ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتی اس سائے سے مستفسر ہوئی۔۔۔
وہی جو حقیقت تھی۔ حرف با حرف۔۔۔۔
کہ کیسے تم ایک اجنبی کی محبت میں گرفتار ہو کر گھر کی دہلیز پار کر گئ۔۔۔ اور کیسے وہ اجنبی تمہاری محبت کا مذاق اڑاتا تمہیں بیچ گیا۔۔۔ سنجیدہ سی ابھرتی آواز پر رشنا نے کرب سے آنکھیں میچیں ۔۔۔ تو یعنی کہ طے ہوا کہ وہ زندگی میں کبھی بھی وہاب درانی کے سامنے سر نہیں اٹھا پائے گئ۔۔۔ آنسو ایک مرتبہ پھر سے بہہ نکلے تھے۔۔۔
دروازے کی دستک کی آواز پر اسکا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔۔۔
یقیناً درواَزے پر وہاب درانی ہی تھا۔۔۔
اسکا دل چاہا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔
اسے سائے کے دروازہ وا کرنے پر اسے قدموں کی چاپ اندر کی جانب ابھرتی محسوس ہوئی۔۔۔ ابتدائی رسمی بات کی آوازوں سے وہ اسے پہچان چکی تھی بلاشبہ وہ وہاب ہی تھا۔۔۔ اسکا جھکا سر اٹھنے سے انکاری ہو گیا۔۔۔ جسم پر لرزا طاری ہونے لگا تھا۔۔۔ اسے اس وقت وہاب کا سامنا دنیا کا سب سے مشکل ترین امر لگا۔۔۔ دل چاہا کہ وقت کا پہیہ موڑ کر چوبیس گھںٹے پیچھے کر دے تاکہ اس بے پناہ شرمندگی سے بچ سکے۔۔۔ خود کو وہ حماقت کرنے سے باز رکھ سکے۔۔۔ ۔
محض چوبیس گھنٹوں میں اسکی زندگی کیا سے کیا ہوگئ تھی۔۔ کاش۔۔۔۔
کاش۔۔۔۔
کاش۔۔۔
زندگی میں اب لاحاصل کاش کی گردان ہی تو رہ گئ تھی۔۔۔ افسوس صد افسوس۔۔۔
دل سے درد کی ٹھیسیں اٹھنے لگی تھیں۔۔ کاش کہ اسے کوئی منتر آتا اور وہ خود کو وہاں سے غائب کر سکتی۔۔۔ قدموں کی آواز قریب سے قریب تر ہوتی عین اسکے پاس آ کر تھمی تھی۔۔۔ اس میں اتنی ہمت نا تھی کہ سر اٹھا کر اس مخلص شخص کی جانب دیکھ ہی سکتی جو اسکی اسقدر بےوفائی کے باوجود اسکے بارے میں سن کر اسے یہاں تک لینے چلا آیا تھا۔۔رائٹرز پیج۔ ام ہانیہ آفیشل
ورنہ کیا وہ نہیں جانتی تھی کہ اسکے خاندان میں غیرت کے نام پر قتل تک ہو جاتے تھے اور یہاں تو اگر اسے قتل بھی کر دیا جاتا تو وہ ان سب کو حق پر سمجھتی کہ اسکی حرکت ہی ایسی تھی۔۔۔ قدموں کی آواز تھمنے پر اسے اپنی دل کی ڈھرکن بھی تھمتی محسوس ہوئی۔۔۔