Hamsafar novel Complete by Umme Hania
Hamsafar is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Hamsafar is a motivational and encourgious story of a strong person who faced many
difficulties of this society and the journy of that person to become an Uniqe person it is also a story of justics among all relations revoled us.
کپڑے تبدیل کرکے جب وہ باہر نکلی تو وہ دونوں اسے دیکھ کر ایک دوسرے کی طرف آنکھوں سے اشارہ کرنے لگی وہ اس جدید تراش خراش کے کپڑوں میں بنا ہار سنگھار کے ہی اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ ان دونوں کی نگاہیں اس سے ہٹنا بھول گئیں۔پ۔۔۔
لگتا ہے آج کوئی خاص مہمان آ رہے ہیں تانیہ نے اسے پکڑ کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بٹھایا اور وہ دونوں اس پر اپنی طبع آزمائی کرنا شروع ہو چکی تھی جب آنکھیں بند کئے بیٹھی امرحہ نے اپنے چہرے پر انکے تیزی سے چلتے ہاتھوں کو محسوس کرتے پوچھا ۔۔
بالکل آج کے مہمان بہت خاص ہیں ایسے مہمان بہت کم آتے ہیں لیکن جب آتے ہیں تو وارے نیارے کر جاتے ہیں وہ دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے کھلکھلا کر ہنسی امرحہ کے سر پر سے ان کی ساری باتیں گزر گئی وہ اپنے دماغ میں ہی اندازے لگا رہی تھی کہ شاید آج ان دونوں میں سے کسی کا رشتہ دیکھنے کے لئے لوگ آرہے ہیں جو یہ اتنا تیار ہوئی ہیں۔۔۔۔
ہوگیا اب دیکھ ذرا شیشے میں وہ اپنے ہی خیالوں میں کھوئی تھی جب ان دونوں نے اسے شیشہ دیکھنے کی اجازت دی ۔۔۔ شیشہ دیکھتے ہی وہ کئی لمحوں تک مبہوت رہ گی اس کی اپنی آنکھیں اپنے ہی عکس سے ہٹنے سے انکاری ہو گی ۔۔۔
آج تک اس نے کبھی لپسٹک تک نہ لگائی تھی اور آج اتنا ہار سنگھار اسے لگا کہ شاید یہ کوئی اور ہی امرحہ ہے ۔۔۔
کئی لمحے تک مسمرائز رہنے کے بعد امرحہ نے اپنا دوپٹہ اٹھا کر سر پر لینا چاہا تو وہ دونوں ہی چیخ پڑی یہ کیا کر رہی ہو ۔۔۔
کیا ہوا گھبرا کر ان دونوں سے پوچھا ۔۔۔
کیا پاگل ہوگئ ہو اتنا اچھا ہیئر سٹائل برباد کرنے لگی ہو۔۔۔چھوڑو اسے میں اسے سیٹ کرتی ہوں تانیہ نے اس سے دوپٹہ پکڑ کر اس کے بازو پر پینوں کی مدد سے ڈوپٹہ اس طرح سے سیٹ کیا کہ اس کے جسم کے تمام نشیب و فراز اس جدید تراش خراش کے لباس میں واضح ہورہے تھے ۔۔۔
امرحہ کو خود اپنا یہ سراپا یوں بے حجاب دیکھ کر خود سے ہی ٹوٹ کر شرم آئی ۔۔۔
تانیہ آپی میں یوں ایزی محسوس نہیں کر رہی پلیز میں دوپٹہ کھول کر لے لوں امرحہ کے منمنا کر کہنے پر تانیہ نے سختی سے اسے ٹوکا ہرگز نہیں اور مہمان کوئی غیر تھوڑی نہ ہیں۔۔۔اپنے ہی ہیں۔۔۔ تمہیں بھی ان سے مل کر بہت اچھا لگے گا۔۔۔مہمانوں سے ملنے کے بعد پھر چاہے جیسے مرضی کر لینا ۔۔۔ انیقہ کے ٹوٹنے پر وہ دل مسوس کر رہ گئ۔۔ تب ہی باہر سے گاڑیوں کے ہارن کی آواز آئی تو وہ دونوں جلدی سے باہر کی جانب لپکیں۔۔۔کیچن میں ریفریشمنٹ کا سارا سامان پڑا ہے تم پلیز تھوڑی دیر کے بعد وہ لے کر کمرے میں آ جانا ہم لوگ چلتی ہیں وہ اسے ہدایت جاری کرتیں بعجلت کمرے سے باہر نکلیں۔۔۔۔
ان کے کمرے سے باہر نکل جانے کے بعد امرحہ کی ہوائیاں اڑنے لگی تھیں۔۔۔یوں اس طرح سے مہمانوں کے سامنے جانے پر وہ جھجھک رہی تھی اس لئے اس نے ان دونوں کی لاکھ نصیحتوں کو بلائے طاق رکھتے ان تمام پنوں کو اتارا اور دوپٹے کو اچھے اوڑھ کر اپنا تابناک سراپا اس میں چھپایا ۔۔۔
تانیہ اور انیقہ کو مہمانوں کے پاس گئے ہوئے کافی دیر ہو چکی تھی جب امرحہ کچن میں جاکر کولڈرنک گلاسوں میں ڈال کر انہیں ٹرے میں رکھتی ٹرے اٹھا کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کمرے کی طرف بڑھی جہاں پر مہمان بیٹھے ہوئے تھے ۔۔
کمرے کا دروازہ کھول کر اندر جانے پر اسے ٹھٹھک کر روکنا پڑا وہ حال نما کمرہ پورا مردوں سے بھرا پڑا تھا جبکہ تانیہ اور انیقہ اپنے ڈوپٹوں سے بے پرواہ ماں کے سامنے ان مردوں کے ساتھ بہت بے تکلفی سے بیٹھی باتیں کر رہی تھیں ۔۔۔
یہ منظر دیکھ کر امرحہ کے جسم پر جیسے چیونٹیاں رینگنے لگی تھی اس کے چہرے کا رنگ خطرناک حد تک سفید پڑتا جا رہا تھا وہ تو سمجھی تھی کہ نرگس آنٹی کی ملنے والی کوئی خواتین ہوں گی لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ یہاں پر مہمان صرف مرد ہی ہوں گے ۔۔۔
اس کا دل بے طرح گھبرانے لگا تھا دماغ شدت سے کچھ غلط ہونے کے سگنلز دے رہا تھا ۔۔۔
ارے امرحہ بیٹا کھڑی کیوں ہو کولڈرنگ صرف کرو ۔۔۔ اسے ابھی تک ویسے ہی بے حس و حرکت کھڑے دیکھ نرگس بیگم نے اسے ٹوکا امرحہ سے ہلنا دوبھر ہو رہا تھا جیسے قدم زنجیر ہو گئے ہوں۔۔۔وہ ان تمام لوگوں کی غلیظ نظریں اپنی آڑ پاڑ ہوتی محسوس کر رہی تھی ابھی اس نے خدا کا شکر ادا کہ وہ ڈوپٹے کو اچھے سے اوڑھے اپنا آپ چھپا چکی تھین۔۔ نرگس بیگم کے دوسری بار ٹوکنے پر اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے ٹرے پہلے نمبر پر بیٹھے ایک موٹی توند والے شخص کے سامنے کی جس نے اسے خباثت سے دیکھتے ہوئے بے باکی کا بھرپور مظاہرہ کرتے کمال جرات سے گلاس پکڑنے کی بجائے اس کا مومی ہاتھ تھاما ۔۔۔۔
امرحہ کو یوں لگا جیسے اسے کسی بچھو نے ڈنگ مار دیا ہو وہ لرز کر رہ گی ایک دم ہی اس کے ہاتھ سے ٹرے چھوٹی تھی ۔۔ ٹرے کے نیچے گرتے ہی ایک چھناکےکی آواز کے ساتھ اس میں موجود تمام گلاس چکناچور ہوئے تھے اور ان میں موجود مشروب فرش پر نقش و نگار بناتا چلا جا رہا تھا۔۔
خوفزدہ سی امرحہ نے ہراساں نظروں سے ان سب کی جانب دیکھا اور لمحے کی تاخیر کے بنا واپس پلٹتی دروازہ دھکیلتی بھاگ کر باہر نکلی۔۔۔
میں دیکھتی ہوں نرگس بیگم بھی سب سے معذرت کرتی اس کے پیچھے ہی باہر کو لپکیں۔
For best type of uniqe urdu meterial and such motivational and lesson able novels join us at facebook

All drive links not working.Needs Media fire links.
ReplyDelete