Sunday, June 26, 2022

Hala complete novel PDF download by Umme Hania

  



 

Hala complete novel PDF download by Umme Hania


Hala is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Hala is a love story by umme Hania of a strong person based upon a beautiful lesson
یہ کیا حرکت تھی خود کو بیمار کرنے کی۔۔۔ دریاب مزید اسکی طرف جھکا۔۔ نور نے گھبرا کر اسے دیکھتے کہنیوں پر وزن ڈال کر اٹھنا چاہا۔۔۔ وہ کیسے اسکے بھید کو پا گیا تھا۔۔۔ نیم دراز ہوتے اسنے شدت سے دریاب کی بات کی نفی کی۔۔۔
کیا مطلب ہے آپکا۔۔۔ کہ میں نے خود کو جان بوجھ کر بیمار کیا ہے۔۔۔لہجے میں بے یقینی حیرانگی و تعجب سمیٹتے بات میں وزن قائم کرنا چاہا۔۔۔
سمجھدار ہو کافی۔۔۔ بالکل میری بات کا سو فیصد یہ ہی مطلب ہے۔۔۔ وہ سیدھا ہو کر کرسی پر بیٹھا البتہ نگاہیں ابھی بھی اسی پر ٹکی تھیں۔۔۔
لہجے کا اعتماد نور کو بھی مضحمے میں ڈال گیا۔۔۔ آپ مجھ پر الزام لگانے کی کوشیش کر رہے ہیں مسٹر دریاب۔۔۔ ابکی بار وہ بھی اعتماد سے اسکی آنکھوں میں دیکھتی سختی سے گویا ہوئی ۔۔ وہ بھلا کیوں اس سے دبتی۔۔۔
نہیں میں تم پر الزام لگانے کی کوشیش نہیں کر رہا بلکہ میں باقاعدہ آپ پر الزام لگا رہا ہوں مسز دریاب۔۔۔  افف۔۔۔۔ اسکا انداز اور طرز تخاطب نور کو سٹپٹانے پر مجبور کر گیا۔۔۔ ساری تیز طراری پل میں ہوا ہوئی۔۔۔
وہ ماتھے پر بل ڈالتی چہرا موڑ گئ۔۔۔ آپ یہ سب اتنے اعتماد سے کیسے کہہ سکتے ہیں۔۔۔ کچھ دیر بعد پھر سے اسکی طرف دیکھتی گویا ہوئی انداز اب بھی روٹھا روٹھا سا تھا۔۔۔
دریاب نے اپنا ماتھاکحجھایا۔۔۔ ہدیوں کو جماتی ٹھنڈ میں اپنے بالکل سامنے موجود کھڑی کو کھولنا۔۔۔ بنا شال جیکٹ یا گرم کپڑے کے ٹھنڈی ہواوں کے تھپیڑوں میں بیٹھنا۔۔۔ کوئی عقلمند انسان ہوشمندی میں تو کر نہیں سکتا۔۔ تھوڑا سا اسکی جانب جھکتے براہ راست اسکی آنکھوں میں جھانکا۔۔۔۔
نہیں میں نے ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔۔ وہ تو میں دوپہر میں  وہاں بیٹھی کام  کر رہی تھی دھوپ کے لئے کھڑکی کھولی تھی کام کرتے کرتے شام اتر آئی پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔ دھوپ کی گرمائش ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑوں میں بدل گی۔۔۔ ٹھنڈ کے باعث اٹھا ہی نہیں گیا اور میں وہیں سکڑ کر بیٹھ گئ۔۔۔ خود کو کلیر کروانے کے لئے دماغ نے لمحوں میں کہانی گھڑی تھی۔۔۔ 
ٹھیک ہے تم آرام کرو میں تمہارے لئے کچھ کھانے کو لاتا ہوں۔۔۔ ناجانے اسے یقین آیا تھا کہ نہیں لیکن وہ بات وہیں ختم کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
نہ۔۔نہیں۔۔۔ آپ رہنے دیں۔۔۔ میں لاتی ہوں۔۔۔ اسے کمرے سے باہر جاتا دیکھ اسنے بعجلت اٹھنے کی کوشیش کی لیکن بے طرح کراہ کر وہیں رک گئ۔۔۔ اتنی دیر تک ٹھنڈ میں رہنے کے باعث انگ انگ دکھنے لگا تھا۔۔۔ بخار سے نقاہت الگ تِھی۔۔۔ صبح ناشتے کے بعد سے اب تک کھایا کچھ نا تھا یہ سب اسی کے اثرات تھے۔۔رائٹرز پیج ۔ ام ہانیہ آفیشل
بیٹھی رہو نور۔۔۔ دو منٹ میں آ رہا ہوں وہ سختی سے اسے ٹوکتا اسے ایک گھوری سے نوازتا  باہر نکل گیا۔۔۔ نور نے بے بسی سے سر بیڈ کرواں سے لگایا۔۔۔ بال دائیں بائیں بکھر گئے تھے۔۔۔ آنسو چھلکنے کو بے تاب تھے۔۔۔ مگر وہ دریاب کے سامنے انہیں بہانا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ کیوں اتنا قریب آ رہے ہیں دریاب۔۔۔ کیوں اپنا عادی بنا رہے ہیں۔۔۔ آپ کا تو کچھ جائے گا نہیں اور میرا کچھ بچے گا نہیں۔۔۔ بہت مشکل سے اپنے ٹوٹے وجود کی کرچیاں سمیٹی ہیں میں نے اب تو محض بھرم ہی قائم ہے۔۔ اب کی بار بکھری تو جڑ نہیں پاوں کی۔۔۔  پلکوں کی بار  پھیلانگنے کو بے تاب آنسووں کو چھلنکے سے روکنے کے لئے اسنے ضبط سے لب بھینچے۔۔

Download link

            

           Drive link


For best type of uniqe urdu meterial and such motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


     

No comments:

Post a Comment

Roshan Sitara novel complete pdf by Umme Hania

    Roshan Sitara novel complete pdf by Umme Hania  Roshan sitara  is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels Uniqe ...