Saturday, June 25, 2022

Guman say Agay conplete novel pdf download by Umme Hania

 



Guman say Agay complete  novel  by Umme Hania

Guman say Agay is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels

Guman say Agah is a motivational  and encourgious story by Umme Hania of a strong person 

اتنی بڑی  بڑی بٹنوں کی حامل آنکھوں کی بینائی کیا ڈبی میں بند کئے گھر رکھ کر آئے ہو جو سامنے سے آتا کوئی زی روح تمہیں دکھائی نہیں دیتا۔۔۔  یونیورسٹی داخل ہونے کے بعد یہ شمائل حسن کی پہلی لب کشائی تھی۔۔۔۔ اس شخص کی اس غیر ذمہ درانہ حرکت سے لمحوں میں اسکا دماغ گھوما تھا صبیح پیشانی پر جابجا شکنوں کا جال بچھا تھا جس کے باعث وہ آنکھوں کو  مزید چھوٹا کئے سامنے والے سے مستفسر تھی  جو پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے  لب بھینچے سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس لڑکی کے اتنے بدتمیزانہ طرز تخاطب نے اسکے اندر شعلے بھڑکائے تھے۔۔۔ بھلا پہلے کہاں سہا تھا اسنے کسی کا ایسا انداز و لہجہ ۔۔۔۔ نہیں میری بینائی تو میرے پاس ہی ہے۔۔  البتہ تم جیسی لڑکیاں ہینڈسم اور امیر گھرانے کے لڑکوں کو دیکھتی اپنی بینائی کیساتھ ساتھ اپنی عقل و فہم اور نسوانیت کو بھی گھر میں گروی رکھے خود کو باقیوں میں نمایاں کرنے اور توجہ حاصل کرنے کو ایسے گھٹیا سٹنٹ کرتی ہیں۔۔۔ تاکہ خیرات میں کسی کے دو پل کے التفات کو جھولی میں ڈال سکیں   اور تم جیسیوں کے لئے یونیورسٹی اپنے ایسے کارناموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایک پلیٹ فارم ثابت ہوتی ہے۔۔۔۔
مقابل اس پر سوا سیر تھا۔۔۔ لہجے کی تپش کو لفظوں کی صورت اگلتے وہ شمائل کو جلا کر بھسم کر دینے کے در پر تھا۔۔۔ آواز اتنی بلند ضرور تھی کہ اردگرد کے لوگ متوجہ ہونے لگے تھے۔۔۔ ٹک ٹاک بنانے کے لئے موجود مجمع اب اپنی سرگرمیاں ترک کرتا انکی طرف متوجہ ہوچکا تھا۔۔۔ دل کی بھراس نکال لینے پر اب مقابل  فاتحانہ نگاہوں سے شمائل کی اڑی اڑی رنگت دیکھ رہا تھا۔۔۔۔  شمائل اسکی اس قدر بیہودگی پر خون کے گھونٹ پی کر رہ گئ تھی۔۔۔ صورتحال اسکی توقعات سے برعکس ہو چکئ تھی۔۔۔ یونیورسٹی کے پہلے ہی دن وہ اپنی ریپوٹیشن خراب کرنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔  مقابل پر وار کرنے کو ہتھیاروں کی اسکے پاس بھی کمی نا تھی۔۔۔ تاریخ گواہ تھی کہ وہ جب جب اپنی کرنی پر آئی تھی مقابل کو بھسم کر کے ہی چھوڑتی تھی مگر یہاں پر بھی باپ کا بے بسی بھرا وعدہ آڑے آگیا جو انہوں نے بیٹی کی باغی فطرت دیکھتے اسے یونیورسٹی جانے کی اجازت دیتے لیا تھا۔۔۔
مسٹر تمہارے اندھے پن کی وجہ سے میری فائل زمین بوس ہو چکی ہے انہیں اکھٹا کون کرے گا۔۔۔ مجمع لگا دیکھ اور بات کو مزید بڑھتا دیکھ وہ ضبط کرتی تحمل سے اپنی تیکھی ناک چڑھاتی جو کہ اسکے پرکشش چہرے کو مزید جاذبیت بخشتی تھی  بکھرے کاغذات کی جانب اشارہ کرتی گویا ہوئی۔۔۔
سات ملکوں کے جھنڈے کو اکھٹا کر کے نہیں لینا تھا نا خود کو پارسا ظاہر کرنے کی گھٹیا کوشیش نے یہ سب کیا ہے۔۔۔وہ دل جلاتی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اسکے سر پر سلیقے سے اوڑھے آنچل کو دیکھتا طنزیہ گویا ہو۔۔۔ اس سے ٹکر لینے والا اپنے ہونے پر پچھتاتا تھا خود سے پنگا لینے والوں کے لئے وہ اسقدر ہی برا ثابت ہوتا تھا۔۔۔ یہ تو پھر ایک معمولی سی لڑکی تھی اسے وہ کس  خاطر میں رکھتا  بھلا۔۔۔۔
شٹ آپ  گھٹیا انسان۔۔۔ بس اسکی ضبط کی طنابیں یہں تک تھیں جو مزید اسکی گھٹیا الفاظی سنتی جھٹکے سے چھوٹیں تھی۔۔۔ وہ شخص مسلسل اسکی ذات پر کچوکے لگا رہا تھا اب میدان میں اترنا ناگزیر ہو گیا تھا۔۔۔ وہ بھوکی شیرنی بنی مقابل پر جھپٹی تھی اسکا ہاتھ ابھی پوری طرح سے مقابل کے گریبان پر پڑا بھی نا تھا جب  نوفل نے پوری قوت سے اسکا ہاتھ جھٹکا ۔۔۔۔۔ یہ سب نوفل کے لئے بھی غیر متوقع تھا ایک معمولی سی لڑکی اور اتنی جرات کہ وہ نوفل درانی کے گریبان پر ہاتھ ڈالتی۔۔۔ اندر سر ابھارتی شدت جذبات کی شوریدہ سر سرکش لہروں پر بند باندھنے کی اسنے ضرورت محسوس نا کی تھی۔۔۔ آنکھوں سے وحشت اور جنون ٹپکنے لگا تھا اسکے ہاتھ جھٹکتے ہی وہ اپنا اور صنف نازک کا فرق مٹائے اسکی جانب لپکا تھا غصے میں وہ ایسے ہی بے قابو ہو جایا کرتا تھا۔۔۔ نوفل چھوڑو سب چلو یہاں سے۔۔۔ عین موقع پر زامن نے اس بپھرے طوفان کو  پیچھے سے جکڑتے دور ہٹانا چاہا جبکہ وہ سرکش اور اتھرے گھوڑے کی مانند لپک لپک کر شمائل کی جانب بڑھ رہا تھا کہ کسی طرح سے اسے زندہ درگو کر ہی دے۔۔۔ اتنی دیر میں بڑے بڑے گول شیشوں کی عینک بیضوی چہرے پر لگائے ایک لڑکی نے سرعت سے نیچے بکھرے تمام کاغذات اکھٹے کئے غصے میں جلتی بھنتی شعلے برساتی نگاہوں سے نوفل کو دیکھتی شمائل کو بازو سے کھینچتے منظر سے ہٹانا چاہا۔۔۔
یہ شمائل حس اور نوفل درانی کی پہلی ملاقات تھی ۔۔۔  مجھے گھٹیا کہنے والے گھٹیا انسان تمہاری آج کی بےعزتی کا بدلہ میں نے تم سے سود سمیت نا لیا نہ ۔۔۔ تو کہنا کہ شمائل حسن تم ایک باپ کی اولاد  نہیں کیونکہ شمائل حسن نے معاف کرنا تو سیکھا ہی نہیں۔۔۔ ایک اجنبی لڑکی کیساتھ کھینچتی جاتی وہ مسلسل چہرا موڑے اس باغی و سرکش شخص کی جانب دیکؑھتی خود سے مخاطب تھی۔۔۔
رائٹرز پیج۔ ام ہانیہ آفیشل
چوبیس گھنٹے۔۔۔ چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر مجھے اس لڑکی کا سارا بائیو ڈیٹا چاہیے۔۔۔  دو دن کے اندر اندر مجھے یہ لڑکی اس یونیورسٹی سے باہر چاہیے وہ بھی بھرپور ذلالت کیساتھ۔۔۔۔  کینٹین میں  اپنی مخصوص ٹیبل پر بیٹھتا وہ خون آشام نگاہوں سے بے چینی سے بالوں میں ہاتھ پھیڑتا چٹکی بجاتا مضطرب سا اپنے سامنے بیٹھے ضامن اور علایہ سے گویا ہوا جسے سنتے ان دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کی جانب دیکھا کہ نوفل درانی جو سوچتا تھا اس پر کاربند ہو کر ہی رہتا تھا۔۔۔  انہیں اس لڑکی کی قسمت پر ترس آ رہا تھا  جسکا  آج یونیورسٹی میں پہلا دن تھا مگر دو دن بعد آخری دن ثابت ہونے والا تھا۔
نجانے اب اونٹ کس کروٹ بیٹھنے والا تھا۔

.کس کس کو یاد ہے شمائل حسن اور نوفل درانی۔۔۔

Download link

          


For best type of uniqe urdu meterial and such motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


     

Hamsafar novel Complete novel pdf by Umme Hania

 


   

Hamsafar  novel Complete by Umme Hania

Hamsafar is a motivational  and encourgious story of a strong person who faced many

 difficulties of this society and the journy of that person to become an Uniqe person it is also a story of justics among all relations revoled us.

کپڑے تبدیل کرکے جب وہ باہر نکلی تو وہ دونوں اسے دیکھ کر ایک دوسرے کی طرف آنکھوں سے اشارہ کرنے لگی وہ اس جدید تراش خراش کے کپڑوں میں بنا ہار سنگھار کے ہی اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ ان دونوں کی نگاہیں  اس سے ہٹنا بھول گئیں۔پ۔۔۔

لگتا ہے آج کوئی خاص مہمان آ رہے ہیں تانیہ نے اسے پکڑ کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بٹھایا اور وہ دونوں اس پر اپنی طبع آزمائی کرنا شروع ہو چکی تھی جب آنکھیں بند کئے بیٹھی امرحہ نے اپنے چہرے پر  انکے تیزی سے چلتے ہاتھوں کو محسوس کرتے پوچھا ۔۔
بالکل آج کے مہمان بہت خاص ہیں ایسے مہمان بہت کم آتے ہیں لیکن جب آتے ہیں تو وارے نیارے کر جاتے ہیں وہ دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے کھلکھلا کر ہنسی امرحہ کے سر پر سے ان کی ساری باتیں گزر گئی وہ اپنے دماغ میں ہی اندازے  لگا رہی تھی کہ شاید آج ان دونوں میں سے کسی کا رشتہ دیکھنے کے لئے لوگ آرہے ہیں جو یہ اتنا تیار ہوئی ہیں۔۔۔۔
ہوگیا اب دیکھ ذرا شیشے میں وہ اپنے ہی خیالوں میں کھوئی تھی جب ان دونوں نے اسے شیشہ دیکھنے کی اجازت دی ۔۔۔ شیشہ دیکھتے ہی وہ کئی لمحوں تک مبہوت رہ گی اس کی اپنی آنکھیں  اپنے ہی عکس سے ہٹنے سے انکاری ہو گی ۔۔۔
آج تک اس نے کبھی لپسٹک تک نہ لگائی تھی اور آج اتنا ہار سنگھار اسے لگا کہ شاید یہ کوئی اور ہی امرحہ ہے ۔۔۔
کئی لمحے تک مسمرائز  رہنے کے بعد امرحہ نے اپنا دوپٹہ اٹھا کر سر پر لینا چاہا تو وہ دونوں ہی چیخ پڑی یہ کیا کر رہی ہو ۔۔۔
کیا ہوا گھبرا کر ان دونوں سے پوچھا ۔۔۔
کیا پاگل ہوگئ ہو اتنا  اچھا ہیئر سٹائل برباد کرنے لگی ہو۔۔۔چھوڑو اسے میں اسے سیٹ کرتی ہوں تانیہ نے اس سے دوپٹہ پکڑ کر اس کے بازو پر پینوں کی مدد سے ڈوپٹہ اس طرح سے سیٹ کیا کہ اس کے جسم کے تمام نشیب و فراز اس جدید تراش خراش کے لباس میں واضح ہورہے تھے ۔۔۔
امرحہ  کو خود اپنا یہ سراپا یوں بے حجاب دیکھ کر خود سے ہی ٹوٹ کر شرم آئی ۔۔۔
تانیہ آپی میں یوں ایزی محسوس نہیں کر رہی پلیز میں دوپٹہ کھول کر لے لوں امرحہ کے منمنا کر کہنے پر تانیہ نے سختی سے اسے ٹوکا ہرگز نہیں اور مہمان کوئی غیر تھوڑی نہ ہیں۔۔۔اپنے ہی ہیں۔۔۔ تمہیں بھی ان سے مل کر بہت اچھا لگے گا۔۔۔مہمانوں سے ملنے کے بعد پھر چاہے جیسے مرضی کر لینا ۔۔۔ انیقہ کے ٹوٹنے پر وہ دل مسوس کر رہ گئ۔۔ تب ہی باہر سے گاڑیوں کے ہارن کی آواز آئی تو وہ دونوں جلدی سے باہر کی جانب لپکیں۔۔۔کیچن میں ریفریشمنٹ کا سارا  سامان پڑا ہے تم پلیز تھوڑی دیر کے بعد وہ  لے کر کمرے میں آ جانا ہم لوگ چلتی ہیں وہ  اسے ہدایت جاری کرتیں بعجلت کمرے سے باہر نکلیں۔۔۔۔
ان کے کمرے سے باہر نکل جانے کے بعد امرحہ کی ہوائیاں اڑنے لگی تھیں۔۔۔یوں اس طرح سے مہمانوں کے سامنے جانے پر وہ جھجھک رہی تھی اس لئے اس نے ان دونوں کی لاکھ نصیحتوں کو بلائے طاق رکھتے ان تمام پنوں کو اتارا اور دوپٹے کو اچھے اوڑھ کر اپنا تابناک سراپا  اس میں چھپایا ۔۔۔

تانیہ اور انیقہ کو مہمانوں کے پاس گئے ہوئے کافی دیر ہو چکی تھی جب امرحہ کچن میں جاکر کولڈرنک گلاسوں میں ڈال کر انہیں ٹرے میں رکھتی ٹرے اٹھا کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کمرے کی طرف بڑھی جہاں پر مہمان بیٹھے ہوئے تھے ۔۔
کمرے کا دروازہ کھول کر اندر جانے پر اسے ٹھٹھک کر روکنا پڑا وہ حال نما کمرہ پورا مردوں سے بھرا پڑا تھا جبکہ تانیہ اور انیقہ اپنے ڈوپٹوں سے بے پرواہ ماں کے سامنے ان مردوں کے ساتھ بہت بے تکلفی سے بیٹھی باتیں کر رہی تھیں ۔۔۔
یہ منظر دیکھ کر امرحہ کے جسم پر جیسے چیونٹیاں رینگنے لگی تھی اس کے چہرے کا رنگ خطرناک حد تک سفید پڑتا جا رہا تھا وہ تو سمجھی تھی کہ نرگس آنٹی کی ملنے والی کوئی خواتین ہوں گی لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ یہاں پر مہمان صرف مرد ہی ہوں گے ۔۔۔
اس کا دل بے طرح گھبرانے لگا تھا دماغ شدت سے کچھ غلط ہونے کے سگنلز دے رہا تھا ۔۔۔
ارے امرحہ بیٹا کھڑی کیوں ہو کولڈرنگ  صرف کرو ۔۔۔ اسے  ابھی تک ویسے ہی بے حس و حرکت کھڑے دیکھ نرگس بیگم نے اسے ٹوکا امرحہ سے ہلنا دوبھر ہو رہا تھا جیسے قدم زنجیر ہو گئے ہوں۔۔۔وہ  ان تمام لوگوں کی غلیظ نظریں اپنی آڑ پاڑ ہوتی محسوس کر رہی تھی ابھی اس نے خدا کا شکر ادا کہ وہ ڈوپٹے کو اچھے سے اوڑھے اپنا آپ چھپا چکی تھین۔۔  نرگس بیگم کے دوسری بار ٹوکنے پر اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے ٹرے پہلے نمبر پر بیٹھے ایک موٹی توند والے شخص کے سامنے کی جس نے اسے خباثت سے دیکھتے ہوئے بے باکی کا بھرپور مظاہرہ کرتے کمال جرات سے گلاس پکڑنے کی بجائے  اس کا مومی  ہاتھ  تھاما ۔۔۔۔
امرحہ کو یوں لگا جیسے اسے کسی بچھو نے ڈنگ مار دیا ہو وہ لرز کر رہ گی ایک دم ہی اس کے ہاتھ سے ٹرے چھوٹی تھی ۔۔ ٹرے کے نیچے گرتے ہی ایک چھناکےکی آواز کے ساتھ اس میں موجود  تمام گلاس چکناچور ہوئے تھے اور ان میں موجود مشروب فرش پر نقش و نگار بناتا چلا جا رہا تھا۔۔
خوفزدہ سی امرحہ نے ہراساں نظروں سے  ان سب کی جانب دیکھا اور لمحے کی تاخیر کے بنا واپس پلٹتی دروازہ دھکیلتی بھاگ کر باہر نکلی۔۔۔
میں دیکھتی ہوں نرگس بیگم بھی سب سے معذرت کرتی اس کے پیچھے ہی باہر کو لپکیں۔

Download link

           

         Drive Link

            Hamsafar by Umme Hania


For best type of uniqe urdu meterial and such motivational and lesson able novels join us at facebook



Thursday, June 23, 2022

Main Anmol novel by Umme Hania Complete download

 

   

Main Anmol  novel  by Umme Hania Complete download 

Main Anmol is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels2

Main Anmol is a motivational  and encourgious story of a strong girl who faced many

 difficulties of this society and the journy of that girl to become an Anmol girl.


تمہاری آنکھیں بہت خوبصورت ہیں اور جب تم یوں حیرت سے دیکھتی ہو تو یوں لگتا ہے جیسے نیلے سمندر میں لہریں شور مچاتیں مچل اٹھی ہوں۔ وہ یک ٹک اسکی نیلی آنکھوں کی جانب دیکھ رہا تھا۔
اور تم بہت بے باک ہو ضرورت سے کچھ زیادہ ہی۔۔ آج اسے اپنا اعتماد بحال رکھنا تھا جو بھی تھا اسے کسی غیر پر اپنی کمزور حیثیت اور درگوں حالت ظاہر نہیں ہونے دینی تھی۔ اس جواب دے کر وہ بے نیاز بنی واپس بچوں کی جانب رخ موڑ گئ۔
بے باک۔۔ آں ہاں۔۔ میں تمہیں کہاں سے بے باک لگا۔۔۔ وہ قہقہ لگاتا محظوظ ہوا۔ وہ کافی دلچسپ لڑکی تھی جو اسکا ارتکاز اپنی طرف سے توٹنے ہی نا دے رہی تھی۔
ویسے میرا نام ڈینیئل ہے وہ بھی اسی کی جانب رخ کرتا بچوں کو کھیلتا دیکھنے لگا۔
مسٹر ڈینیئل آپ یہاں سراسر اپنا وقت برباد کر رہے ہیں میں ایسی لڑکی نہیں ہیں جو آپ مجھے سمجھ رہے ہیں تو آپ اپنے لئے کہیں اور کوشیش کریں ۔ نہایت تحمل اور عقلمندی سے انمول نے اسکے اور اپنے درمیان حد بندی کرنی چاہی۔
جانتا ہوں میں اسی لئے تو تمہاری طرف متوجہ ہوا ہوں کیونکہ تم وہ نہیں جو ون نائٹ سٹینڈ پر یقین رکھتی ہر کسی کے ساتھ چل دو ۔ اسکی باتوں سے انمول کو اپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہوا۔ میں تو صرف تم سے دوستی کرنا چاہتا ہوں
۔۔۔

.********


ارے ایسٹرن بیوٹی بات تو سنو کہاں جا رہی ہو یار میں نے تمہیں کتنا ڈھوندا تم اندازہ نہیں کر سکتی میں روز وہاں پارک میں جاتا تھا تمہاری ایک جھلک دیکھنے کے لئے لیکن اس روز کے بعد سے تم مجھے کبھی دکھائی نہیں دی میں تو مایوس ہو گیا تھا۔ مجھے لگا میں نے تمہیں کھو دیا۔ لیکن دیکھو جب میں نے امید چھوڑ دی تمہارے ملنے کی تو تم مجھے مل گئی وہ جوش و خروش اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں اونچی اونچی کہتا انمول کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا اچانک وہ انمول سے آگے بڑھتا ہوا اس کا راستہ روک گیا ۔۔
مسئلہ کیا تمہارے ساتھ۔ تم میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتے انمول نے غصے سے اسے گھور کر دیکھا جو خوامخواہ ہی چیونگم کی طرح اس کے ساتھ چپکا جا رہا تھا ۔ میں کیا کروں ایسٹرن بیوٹی تم ہو ہی اتنی خوبصورت کہ تم سے نظریں ہٹانے کو دل ہی نہیں چاہتا میں کیسے تمہارا پیچھا چھوڑ دو پلیز تو مجھے اپنے ساتھ ہی باندھ لو وہ بے چارگی سے اس کے سامنے کھڑا آنکھیں پٹپٹا کر بولا تو انمول کا پارہ مزید ہائی ہونے لگا۔
بہت ہی کوئی تھرڈ کلاس حرکت ہے یہ۔


_____

Download link

            

           Drive link


For best type of uniqe urdu meterial and such motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


     

Tuesday, June 14, 2022

Piya Sang Eid e Baharan novel by Umme Hania complete pdf

   


   

Piya Sang Eid e Baharan novel by Umme Hania 


Piya Sang eid e baharan  is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels2 written by a motivational writer Umme Hania. Umme Hania is a motivational Urdu writer and Piya Sang eid e baharan  novel is her eid special novel

Uniqe novels2 is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

نہیں مجھے سمجھ نہیں آتا داجی کو حمزہ میں نظر کیا آیا جو وہ میری قسمت اس سے پھوڑنے کے در پر ہیں۔۔  وہ روہانسی ہوتی رائقہ کے سامنے آئی۔۔۔ 

کیوں کیا کمی ہے میرے خوبرو سے بھائی میں جو تم یوں انکی شان میں قصیدے پڑھ رہی ہو۔۔۔ اچھے خاصے ڈیسنٹ پڑھے لکھے گھبرو جوان ویل سیٹلڈ شخص ہیں بس ایک تم ہی ہو جسے ان میں کسی خوبی کی بجائے محض خامیاں ہی نظر آتی ہیں ورنہ باقی سب کی بینائی ابھی ٹھیک ہے۔۔

رائقہ کو عائلہ کا یوں اپنے عزیز از جان بھائی کی شان میں قصیدے پڑھنا قطعاً پسند نا آیا تھا اسی لئے پنجے گاڑھتی میدان میں کودی۔۔۔

چپ کرو بھیا کی چمچی۔۔۔۔ اس میں کوئی خوبی ہو تو نظر آئے نا۔۔۔ ہلاکو خان نا ہو تو۔۔۔۔  دنیا جہاں کی غلط عادات اسے مجھ میں نظر آتی ہیں۔۔۔ عائلہ آنچل ٹھیک سے اوڑھو۔۔۔ آئلہ یوں اتنے اونچے قہقے لگا کر مت ہسو۔۔۔ عائلہ یہ کپڑے مت پہنو۔۔۔ یہ مت کرو ۔۔  وہاں مت جاو۔۔۔ بلکہ عائلہ تم سانس ہی مت لو۔۔۔ وہ منہ کے زاویے ٹیڑھے کرتی غصے سےحمزہ کی نقلیں اتار  رہی تھی جبکہ رائقہ اپنی ہسی چھپانے کو پیٹ پکڑے دوہری ہوتی جا رہی تھی۔۔۔

اوپر سے ستم یہ کے  ماما بھی اسکی حمایت میں مجھے ڈانٹنا شروع ہو جاتی ہیں  انہیں بھی اپنے اس لاڈلے کے سامنے میں ہی احمق عظیم نظر آتی ہوں۔۔  ابھی تک تو میں جیسے تیسے اس ہلاکو خان کی پابندیاں اپنی ننھی سی جان پر ظلم کرتے سہہ رہی ہوں مگر میں مستقل اسکی غلامی میں جاتی یہ پابندیاں برداشت کرتی خود پر ظلم نہیں کروں گئ ۔۔۔ نہیں ہرگز نہیں۔۔۔ ابھی میرے اتنے برے دن نہیں آئے کہ میں گھٹ گھٹ کر مر جاوں وہ دور اپنے مستقبل کر سوچتی حوفزدہ ہو کر جھرجھری لے اٹھی۔۔ مجھے کچھ نا کچھ تو کرنا ہی ہوگا۔۔۔ پلیز کچھ سوچو رائقہ وہ روہانسی ہو اٹھی

یہ فیصلہ دادا جی کا ہے عائلہ اور تم جانتی ہو کہ  ان کے فیصلے سے انحراف کرنا کسی کے بس کا کام نہیں ہے  رائقہ نے مصلحت کا دامن تھامتے اسے سمجھانے کی ادنیٰ سی کوشش کی جب کہ وہ ہتھے سے ہی اکھڑ گئی ۔۔۔

میں کروں گی ان کے فیصلے سے انحراف مجھے نہیں کرنی شادی اس ہلاکو خان سے بلکہ میں ابھی اس ہلاکو خان کا دماغ درست کر  کے آتی ہوں۔۔۔ غصے سے اسے کہتی وہ کمرے سے نکلتی باہر جا چکی تھی جبکہ  اسے یوں باہر جاتا دیکھ  رائقہ اپنا سر تھام کر رہ گئ نہ جانے اب  وہ کیا حماقت  کرنے والی تھی ۔

Piya Sang eid e baharan novel by Umme Hania
          Complete download pdf

If u want to download it then click the link below

         Download link

            

Piya Sang eid e baharan  by Umme Hania

           

         Drive Link

   Piya Sang eid e baharan  by Umme Hania


For best type of uniqe urdu meterial and such motivational and lesson able novels join us at facebook




Friday, June 10, 2022

Nam Aankhain Complete novel Pdf by Umme Hania


Nam Aankhain Complete novel Pdf by Umme Hania

Nam Aankhain is a motivational and moralable uniqe urdu novel published by uniqe  novels2
Nam Aankhain is recently completed and high demanded novel of  Umme Hania. There is the PDF link of  Nam Aankhain so readers can easily download this novel 

وہ ابھی تک کل والے کالج کے یونیفارم میں ملبوس تھی جو جگہ جگہ سے میلا ہو چکا  تھا۔۔۔ بالکل اسکے کردار کی طرح۔۔۔ اسکے کردار کی چادر بھی تو جگہ جگہ سے میلی ہو گئ تھی۔۔۔ بھلے ہی اسکی عزت محفوظ رہی تھی مگر ایک گھر سے بھاگی لڑکی اور رات بھر باہر رہنے والی لڑکی کو معاشرہ کن الفاظ میں یاد کرتا ہے اسکے بارے میں کیا رائے قائم کرتا ہے یہ سوچ ہی اسے نیم مردہ بنا رہی تھیں۔۔۔
کل رات اسکا توکل اللہ پر مزید مضبوط ہو گیا تھا۔۔۔ ابھی اللہ کی بنائی اس دنیا میں نیک لوگ ختم نہیں ہوئے وہ مان گئ تھی کیونکہ ایسے ہی ایک فرشتہ نما انسان کی مدد سے وہ اس عفریت زدہ سے وائٹ پیلس سے رہا ہو پائی تھی۔۔۔
کیا اسکے گھر والے اسے قبول کریں گے یا دھتکار دیں گے۔۔۔ یہ سوچوں کے وہ ناگ تھے جو اسے کل رات سے ہی ڈس رہے تھے۔۔  افسوس صد افسوس کہ وہ اب جن چیزوں کے بارے میں سوچ رہی تھی پہلے کیوں نا سوچ پائی۔۔۔۔ کیوں باپ اور بھائیوں کے سروں ہر خاک ڈالنے سے پہلے اسنے نا سوچا۔۔۔ کیوں گھر کی دہلیز پار کرنے سے پہلے وہ یہ نا سوچ پائی کہ اسکے اس عمل سے کیسے اسکے باپ بھائی معاشرے میں سر اٹھا کر جی پائیں گے۔۔۔
اب سوچ رہی تھی تو دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔ اب جب کہ وقت سوکھی ریت کی مانند ہاتھوں سے پھسل چکا تھا تو ایسے میں لکیر پیٹنے کا بھلا کیا فائدہ تھا۔۔
وہ ایک عقوبت خانے سے باحفاظت نکل آئی تھی مگر تصور کر سکتی تھی کہ زندگی آگے بھی اسکے لئے خاردار ہی ثابت ہونے والی تھی۔۔۔ سوچوں کے ناگ اندر ہی اندر سر ابھارتے اسے ڈس رہے تھے۔۔۔ 
تمہیں یقین ہے کہ جسکا نمبر تم نے مجھے دیا ہے وہ تمہیں لینے یہاں ضرور آئے گا۔۔۔
اس نیم تاریک سے لاوئنج کی ایک جانب سے ایک سایہ نمودار ہوا تھا۔۔۔ رشنا نے آواز پر سر گھٹنوں سے اٹھا کر اس جانب دیکھا۔۔
متورم سرخ سوجھی آنکھیں۔۔۔ ناک اور گال مسلسل شدت گریہ سے سرخ ہوئے پڑے تھے۔۔۔ ماتھے پر ایک پٹی بندھی تھی۔۔۔ جبکہ چہرے اور گردن پر بھی جا بجا خراشیں لگی تھیں۔۔  سر پر البتہ وہی سیاہ شال اوڑھ رکھی تھی جسے کل پری اپنے قدموں تلے روند گئ تھی۔۔۔
وہاب ضرور آئیں گے۔۔۔ میں انہیں اچھے سے جانتی ہوں ۔۔ میری اطلاع پا کر ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ نا آئیں۔۔۔ دل کا غم ایک مرتبہ پھر سے آنسو بن کر بہہ نکلا تھا وہاب کے ذکر پر چہرے پر اذیت کی ایک نئ داستاں رقم ہونے لگی تھی۔۔۔
ہے کون وہ۔۔۔ اسکے چہرے کا ایک ایک اتار چڑھاو دیکھتے وہ سایہ الجھن زدہ تاثرات لئے مستفسر ہوا۔۔۔
میرا منگیتر ہے۔۔۔ اگلے ہفتے شادی تھی ہماری۔۔۔ رشنا پھر سے چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
اسکی باتیں سن کر وہ سایہ ایک پل کو ٹھٹھکا مگر دوسرے ہی پل خود کو کمپوز کرتے اسنے لاوئنج کی ایک کھڑکی سے دبیز پردا ہٹا دیا جس سے روشنی کو اندر داخل ہونے کا راستہ فراہم ہو گیا اور وہ پورے طمطراق سے لاوئنج میں داخل ہوتی لاونج کو منور کر گئ تھی۔۔۔
اگلے ہفتے شادی تھی تو گھر سے بھاگی کیوں۔۔۔کھڑی کی جانب رخ کئے اس سائے کی سنجیدہ آواز ابھری۔۔۔
ہمارا رشتہ دو سال پہلے بڑوں کی رضا مندی سے طے ہوا تھا۔۔۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔۔۔ ہر مشرقی لڑکی کی طرح مجھے میرے بڑوں کے فیصلے پر کوئی اعتراض نا تھا۔۔۔ مگر پھر میری زندگی میں آفتاب آیا۔۔۔ ہماری بات چیت کی شروعات فیسبک پر ہوئی تھی۔۔۔ وہ باتیں کمال کی کرتا تھا۔۔۔ رفتہ رفتہ میں اسکی خوشنما باتوں کی جال میں پھنستی چلی گئ۔۔۔ 
مجھے اس کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا ۔۔۔ میرے دن کی شروعات اس سے بات کر کے ہوتی اور دن کا اختتام بھی اسی سے بات کر کے ہوتا۔۔۔ جس روز میری اس سے بات نا ہو پاتی مجھے وہ دن کاٹنے کو ڈورتا۔۔۔ اسنے مجھے محسوس کروا کہ میں خاص ہوں بہت خاص۔۔  میں اسکی دیکھائی رنگین دنیا میں کھوتی چلی گئ۔۔ حتی کہ اپنی سد بدھ تک کھو گئ۔۔ 
میری شادی کو محض ایک ہفتہ رہ گیا تھا۔۔۔ میں جانتی تھی کہ بابا اپنی روایات میں کٹر ہیں زبان کے پکے ہیں اگر آفتاب ہمارے گھر میرا رشتہ لے بھی آتا تو بابا کبھی وہ رشتہ قبول نہیں کرتے کیونکہ میرا رشتہ تو دو سال سے طے تھا۔۔ پھر آفتاب نے مجھے گھر سے بھاگ جانے کی ترغیب دی ۔۔۔ اور میں ۔۔۔ میں بےغیرت بنا حالات کی سنگینی کا احساس کئے بنا سوچے سمجھے اسکے لئے باپ کی دہلیز پار کر گئ۔۔۔
مجھ جیسیوں کی ساتھ قسمت پھر ٹھیک ہی کرتی ہے۔۔۔ جو لڑکی ماں باپ کے بارے میں نا سوچے دوسرے بھلا پھر اسکے بارے میں کیسے سوچ سکتے ہیں۔۔۔ میں نے بھی تو ایک اجنبی پر بھروسہ کیا۔۔  اور دیکھو میرے ساتھ کیا ہوا۔۔۔ اسکی خوشنما باتیں پانی پر بلبلا ثابت ہوئیں ۔۔۔ اسکا مجھے خاص بنانا مجھے پاتال میں گرا گیا۔۔۔ 
اس محبت کے دعویدار نے کیا کیا۔۔۔ کھلے عام محبت کی دھجیاں اڑائیں۔۔ میرا سودا کر دیا۔۔۔ چند نوٹوں کے پلندوں کے عوض مجھے بیچ دیا۔۔۔ مجھ جیسی بیٹیاں تو پیدا ہوتے ہی مر جانی چاہیں۔۔۔ لوگ بیٹیوں کی پیدائش پر انہیں بوجھ سمجھ کر نہیں روتے بلکہ شاید وہ ان بیٹیوں کے مجھ جیسا بدکراد نکل آنے کے ڈر سے روتے ہیں۔۔۔ 
جو میں نے اپنے ماں باپ کے ساتھ کیا اسکی معافی تو شاید ہی مجھے ملے۔۔۔ میں نے ایسا کیوں کیا۔۔  کیوں نا میں اپنے ماں باپ کی عزت کی لاج رکھ پائی۔۔۔ کیوں اس شخص کے چند میٹھے بول مجھے میرے ماں باپ کی مخلص محبت سے بھاری لگے۔۔ کیوں۔۔۔
کیوں میں ایک اچھی بیٹی نا بن پائی۔۔۔ کیوں میں اپنے باپ کا مان برقرار نا رکھ پائی۔۔۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ ٹھیک کرتے تھے بیٹی پیدا ہوتے ہی دفنا دیتے تھے شاید انہیں پتہ تھا کہ ان میں سے بھی کچھ بیٹیاں مجھ جیسی بد پیدا ہونگی جو ماں باپ کے سروں میں خاک ڈال دیں گی۔۔۔ اسی لئے شاید وہ بیٹی کی پیدائش پر خوفزدہ تھے۔۔۔
اسکا غم ختم ہونے کا نام ہی نا لیتا تھا۔۔۔ دل اپنی حماقتوں کے غم سے پھٹا جا رہا تھا۔۔۔۔ پشیمانی حد سے سوا تھی۔۔۔ شرمندگی پلکوں کی چلمن اٹھنے نا دیتی تھی۔۔  دل سے خون رس رہا تھا۔۔۔ اذیت حد سے سوا تھی۔۔۔
اسکی آہ و بکا اس فلیٹ کی چار دیواری سے سر ٹکرا ٹکرا کر واپس پلٹ رہی تھی۔۔۔
وہ اچھی بیٹی نہیں تھی یہ احساس ہی اسے زندہ درگو کر رہا تھا۔۔۔
آپ نے وہاب سے کیا کہا۔۔۔ رو رو کر جب ہلقان ہو چکی تو۔۔ یاد آنے پر ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتی اس سائے سے مستفسر ہوئی۔۔۔
وہی جو حقیقت تھی۔   حرف با حرف۔۔۔۔ 
کہ کیسے تم ایک اجنبی کی محبت میں گرفتار ہو کر گھر کی دہلیز پار کر گئ۔۔۔ اور کیسے وہ اجنبی تمہاری محبت کا مذاق اڑاتا تمہیں بیچ گیا۔۔۔ سنجیدہ سی ابھرتی آواز پر رشنا نے کرب سے آنکھیں میچیں ۔۔۔ تو یعنی کہ طے ہوا کہ وہ زندگی میں کبھی بھی وہاب درانی کے سامنے سر نہیں اٹھا پائے گئ۔۔۔ آنسو ایک مرتبہ پھر سے بہہ نکلے تھے۔۔۔
دروازے کی دستک کی آواز پر اسکا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔۔۔
یقیناً درواَزے پر وہاب درانی ہی تھا۔۔۔
اسکا دل چاہا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔ 
اسے سائے کے دروازہ وا کرنے پر اسے قدموں کی چاپ اندر کی جانب ابھرتی محسوس ہوئی۔۔۔ ابتدائی رسمی بات کی آوازوں سے وہ اسے پہچان چکی تھی بلاشبہ وہ وہاب ہی تھا۔۔۔ اسکا جھکا سر اٹھنے سے انکاری ہو گیا۔۔۔ جسم پر لرزا طاری ہونے لگا تھا۔۔۔ اسے اس وقت وہاب کا سامنا دنیا کا سب سے مشکل ترین امر لگا۔۔۔ دل چاہا کہ وقت کا پہیہ موڑ کر چوبیس گھںٹے پیچھے کر دے تاکہ اس بے پناہ شرمندگی سے بچ سکے۔۔۔ خود کو وہ حماقت کرنے سے باز رکھ سکے۔۔۔ ۔
محض چوبیس گھنٹوں میں اسکی زندگی کیا سے کیا ہوگئ تھی۔۔ کاش۔۔۔۔
 کاش۔۔۔۔
 کاش۔۔۔
 زندگی میں اب لاحاصل کاش کی گردان ہی تو رہ گئ تھی۔۔۔ افسوس صد افسوس۔۔۔
دل سے درد کی ٹھیسیں اٹھنے لگی تھیں۔۔ کاش کہ اسے کوئی منتر آتا اور وہ خود کو وہاں سے غائب کر سکتی۔۔۔ قدموں کی آواز قریب سے قریب تر ہوتی عین اسکے پاس آ کر تھمی تھی۔۔۔ اس میں اتنی ہمت نا تھی کہ سر اٹھا کر اس مخلص شخص کی جانب دیکھ ہی سکتی جو اسکی اسقدر بےوفائی کے باوجود اسکے بارے میں سن کر اسے یہاں تک لینے چلا آیا تھا۔۔رائٹرز پیج۔ ام ہانیہ آفیشل
ورنہ کیا وہ نہیں جانتی تھی کہ اسکے خاندان میں غیرت کے نام پر قتل تک ہو جاتے تھے اور یہاں تو اگر اسے قتل بھی کر دیا جاتا تو وہ ان سب کو حق پر سمجھتی کہ اسکی حرکت ہی ایسی تھی۔۔۔ قدموں کی آواز تھمنے پر اسے اپنی دل کی ڈھرکن بھی تھمتی محسوس ہوئی۔۔۔

Nam Aankhain novel by Umme Hania
          Complete download pdf

If u want to download it then click the link below

         Download link

            

           

         Drive Link

            Nam Aankain  by Umme Hania


For best type of uniqe urdu meterial and such motivational and lesson able novels join us at facebook




Roshan Sitara novel complete pdf by Umme Hania

    Roshan Sitara novel complete pdf by Umme Hania  Roshan sitara  is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels Uniqe ...